Wednesday, July 1, 2015

true love with Allah
عشق حقیقی

اگر کسی بھائی بہن بیٹی یا بیٹے کو نفس پر عبور اور اپنی میں ختم کرنی ہو اور علم حق سیکھنا ہو کہتے ہیں کہ علم کسی شے کو اس کی حقیقت کے حوالے سے جان لینے کا نام ہے وہی علم صحیح معنوں میں علم کہلائے گا جو انسان کو اپنے مالک و خالق کے نزدیک کر دے، اللہ کی معرفت عطا کر دے، اس کی حقیقی بندگی اور اس تک رسائی عطا کر دے اور آخرکار اس کے حکم کی تعمیل میں اس کے حکم کے نفاذ تک لے آئے۔ اس کے برعکس ایسا علم جو بندے کو اپنے رب سے دور لے جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک علم نہیں جدید ترین علوم اور جدید ترین سائنسی انکشافات اذہان کو علمی اور عملی دونوں حوالوں سے اپنے خالق حقیقی کے بہت قریب لے آتے ہیں ایک سائنسدان جو کھلے دل و دماغ کا مالک ہو بنیادی طور پر توحید پرست ہوتا ہے۔ گو علم کی تعریف جاننا ہے لیکن وہی جاننا مرتبہ علم کو پہنچتا ہے جس کے حصول سے خدا شناسی کا گوہر میسر آئے اور جو قرب الٰہی کا باعث بنے جب عشق حقیقی سلک کے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ اپنی ذات کو بھولتا جاتا ہے. یعنی وہ روشیناں جس کے اندر فرد کی اپنی ذات کا خاکہ اور علم ہے. وہ روشنیاں آہستہ آہستہ ذہن سے خارج ہونے لگتی ہیں اور ان کی بجاے تصور میں الله تعالیٰ کی ذات کی روشنیاں منتقل ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کے فرد کی اپنی ذات کی روشنیاں بلکل ہی ختم ہو جاتی ہیں اور بس الله ہی الله باقی رہ جاتا ہے

اللہ ـــ ھو اللہ ھو ھو ھو ھو اللہ ھو 
یہ ایک ایسا ورد ہے جو صرف اور صرف خلوتوں میں یکسوئی کے ساتھ کیا جائے اور مراکبات و مناجات میں اور اللہ کریم کی جلوت پر خیال رکھا جائے 
صبح صادق کا وقت بہت ہی بہترین ہے لیکن اگر کوئی کسی اور وقت میں بھی یہ عمل کرے تو کوئی مضاحقعہ نہیں عمل کا کل وقت ہے 1 گھنٹہ اور یہ عمل ہر روز کیا جائے
انشاء اللہ عشق حقیقی کی وہ منزلیں دیکھ سکوگے جو اولیاء کرام نے دیکھی تھی
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ہو سکتا ہے آپ کے شیئر کرنے سے کسی مجبور مستحق کی مدد ہوجائے
مزید معلومات کے لیئے رابطہ کریں
+923009227663

No comments:

Post a Comment