Friday, June 5, 2015

sucess
کامیابی کا راز
آج ہم لوگ اتنے پریشان کیوں ہیں ؟
کیا ہم نے نماز کی پابندی کی ہے کیا ہم نے خلوص دل سے نماز پڑھی ہے یا صرف فرض سمجھ کر جان چھڑائی ہے کیا ہم صبح اٹھ کر تلاوت کرتے ہیں کیا ہم نے جو تلاوت کی اس پر عمل کرتے ہیں کیا ہمارا پیسہ اور ہماری اولاد ذکر اللہ میں مخل ہو رہی ہے کیا ہم نے کوئی برائی نہیں کی کوئی گناھ نہیں کیا کسی کی دل آزاری نہیں کی عزیز و اقارب تو دور کی بات کیا ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک رکھا ہے ہم پارسہ نہیں تو کیا ہوا کم سے کم ہم کوشش تو کر سکتے ہیں کہ جو بھی کام کریں اللہ کریم کو راضی رکھنے کیلئے ہی کریں
کبھی وقت ملے تو تنہائی میں یہ بات سوچئے گا ضرور
اللہ کریم ۚ نے اپنے لاریب کتاب قرآن مجید میں متعدد جگھ پر جن و انس کو کامیابی کا راز بتایا ہے ہم لوگ جانتے ہوئے بھی عمل کرنے سے غافل ہیں سورہ رعد - بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( 28 ) قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمینان کا ذریعہ بتا یا ہے نماز اور تلاوت قرآن کے مطعلق تو اتنی آیات اور آحدیث مبارکہ ہیں کہ جن کا شمار نہیں
کامیابی کا راز چاہے وہ کامیابی دنیا کے کاموں کی ہو یا دین کے فانی زندگی کی ہو یا ابدی زندگی کی کامیابی کی چند باتیں آپ کے حضور پیش کرتا ہوں
نماز کی پابندی کیجئے اور خلوص دل سے نماز ادا کیجئے
تلاوت قرآن باالخصوص فجر میں اپنے اوپر لازم کیجئے
قرآن کو جتنا بھی پڑھو ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کیجئے
آپ باوضو ہیں یا بےوضو کوشش کریں کے باوضو ہی رہیں لیکن اگر کسی بنا پر باوضو نہیں بھی رہ سکتے تو کم سے کم اپنے کپڑے پاک رکھا کیجئے
اللہ کریم کا ذکر ہر وقت وضو بےوضو دل میں جاری رکھیں
سب سے افضل ذکر ہے (لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ )
ہر نماز کے بعد جس شخص نے لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ کی ایک تسبیح پڑھی اس نے گویا اپنے لیئے جنت میں گھر بنا لیا اب گھر تو بن گیا اب اس میں باقی سامان بھی رکھا جائے تاکہ گھر خوبصورت لگے
استعفار کی کثرت کیجئے تاکہ راہ نجات حاصل ہو
موت کو دن میں کم سے کم تین بار ضرور یاد کیجئے کہ موت آنی ہے اور قبر کے عذاب سے ڈرتے رہیئے
بیشک اللہ کی یاد میں ہی دلوں کو سکون ملتا ہے اور اپنے تمام معاملات اللہ کریم کے حوالے کر دیجئے
ایک بندہ مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو باآسانی اسے ان مشکلات سے نکال سکتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے اس مشکل سے نجات عطا کردیتے ہیں۔تاہم اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ مشکلات ،اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی ،جنت میں اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت کے دکھوں سے اسے بچارہی ہیں۔چنانچہ مشکلات و تکالیف بھی اسے یہ اطمینان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر اک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔جو شخص اطمینا ن کی اس کیفیت میں جیتا ہو، اس کے سکونِ قلب کے کیا کہنے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امتحان کی تیاری میں مصروف کوئی قابل طالب علم رات بھر جاگتا اور نیند کی راحت سے محروم رہتا ہے ۔ مگر اسے یہ تکلیف اس لیے گوارا ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس کا بہترین نتیجہ دیکھے گا۔ یا کوئی کاروباری شخص اپنے کاروبار میں پیسے لگاتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے، اس امید پر کہ آنے والے دنوں میں اسے بھرپور منافع ملے گا۔
یہ ایک حقیت ہے کہ اللہ کی یاد میں بڑا سکون ہے۔ مگر اس شخص کے لیے جو ایمان و تقوی کی کیفیات میں جیتا ہو۔ نہ کہ اس شخص کے لیے جسے عام حالات میں اللہ یاد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنیا کی لذتیں ہوں۔ ہاں اسے کبھی تکلیف پہنچ جائے تو اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے وہ وظیفے پڑھنا شروع کردے اور سمجھے کہ یہ اللہ کی یاد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔
اب بھی وقت ہے اے امت مسلم اپنی اصلاح کیجئے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھئے انشاء اللہ انشاء اللہ انشاء اللہ کبھی ناکامی نہیں ہوگی
گزارش :- اپنی دعا میں مجھ سمیت تمام مسلم بھائی بہنوں کو ضرور یاد رکھا کیجئے
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ہو سکتا ہے آپ کے شیئر کرنے سے کسی مجبور مستحق کی مدد ہوجائے
مزید معلومات کے لیئے رابطہ کریں
+923009227663

No comments:

Post a Comment